ہن تھی فریدا شاد ول جھوکاں تھیسن آباد ول

Monday, 30 May 2016

نظم

آ فرض کروں
آ فرض کروں
چیتر بہار دی ہک چندروکی رات کوں اساں
اپنڑے پِڑ تے رسی جھمر چھوڑ کراہئیں
کجھ زنجیراں تروڑ کراہئیں
وستی کولوں باہروں نکلوں
بنے کسیاں پار کریندیں
دربھ لتڑیندیں
چھاندیں چھاندیں
اپنڑے ساہ کوں جُھنڑدیں جُھنڑدیں
اپنڑی کئو کوں سنڑدیں سنڑدیں
پُھل سرمی دے چنڑدیں چنڑدیں
کہیں کونے تے ول مل پووں
لب نہ چولوں
کجھ نہ بولوں
بس ہک بے کوں
اپنڑے اپنڑے خاب ولھیٹوں
چپ دے لال غلافیں اندر
وعدے ویڑھوں
ول ٹُر پووں
اپنڑی جھمر اپنڑے پِڑ تے
آ ہک واری فرض کروں...

.........آ.......

★★اردو ترجمہ★★★

آؤ فرض کریں
آؤ فرض کریں
چیت بہار کی ایک چاندنی رات میں ہم
اپنے اپنے ٹھکانے پہ رسی رقص چھوڑ کر
کچھ زنجیریں توڑ کر
بستی سے باہر نکلیں
پگڈنڈیاں اور کھال پار کرتے
جھاڑیاں روندتے
چھپتے چھپاتے
اپنے سانس کو تھامتے تھامتے
اپنی بازگشت کو سنتے سنتے
سرمی کے پھول چُنتے چُنتے
کسی کونے میں اچانک پھر ملیں
نہ لب ہلائیں
نہ کچھ بولیں
بس ایک دوجے کو
اپنے اپنے خواب لپیٹیں
چُپ کے سرخ غلافوں میں
وعدے ڈھک دیں
پھر چل پڑیں
اپنے اپنے رقص اور اپنے اپنے ٹھکانے پر
آؤ ایک بار پھر فرض کریں...
آؤ....

اعترافِ کوتاہی:- اردو زبان بہت وسیع سہی لیکن اس میں مجھے سرائیکی لفظ "پِڑ" کا کوئی شایانِ شان مترادف میسر نہیں آیا. مجبوراً نظم میں شاعر کی مراد لیے گئے لفظ "ٹھکانہ" سے ترجمہ کردیا. ورنہ اس لفظ "پِڑ" میں وہ وسعت اور تخیل کی بلندی ہے کہ صرف سرائیکی اہلِ زبان ہی اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں.

جُھمِر دراصل سرائیکی زبان میں لوک رقص کو کہا جاتا ہے. مگر جو رومانویت اور خوبصورتی اس سرائیکی لفظ میں ہے اس کا اردو ترجمہ "رقص" اس کی عشرِ عشیر عکاسی کرنے سے قاصر رہے گا. اس نظم میں رسی والا رقص دراصل جبرو قدر کی رسی میں جکڑے کٹھ پتلی انسان کی ایک بے نام امید پر ناچتی زندگی کا استعارہ ہے.

کلام :- سائیں عزیز شاہد
اردو ترجمہ :- اویس قرنی (جوگی)

0 تہاڈی صلا:

Post a Comment

 
سرائیکی وسیب - ،، اساں بہوں تھوریت ہیں جناب ذوالقرنین سرور سائیں دے