ہن تھی فریدا شاد ول جھوکاں تھیسن آباد ول

Sunday, 22 September 2013

نی سیو اساں نیناں دے آکھے لگے


نی سیو اساں نیناں دے آکھے لگے

اے دوست  ہم آنکھوں کے کہنے میں آگئے

سیو   سہیلی  کو  کہتے ہیں۔   انسانی فطرت  ہے  کہ  انسان اپنی  راز کی باتیں صرف اپنے  گہرے دوستوں  اور سہیلیوں سے  کہتے ہیں۔ حضرت شاہ حسین  ؒ کی لازوال  شاعری کا یہ ایک خاص اسلوب  اور خاص استعارہ  ہے ۔  یعنی ایک الہڑ  مٹیار  اپنی گہری سہیلی سے اپنے دل  کے راز  کہہ رہی  ہے ۔  
جیسا  کہ  اس  شعر میں   میں سہیلی کو  مخاطب کر  کے فرمایا ہے  کہ " نی سیو"  ہم  آنکھوں کے  کہنے  میں آ گئے ۔ آنکھ  اللہ  تعالیٰ  کا  بہترین  تحفہ ہے جو اس  نے انسان  کو دیا  لیکن  اگر  دیکھا جائے  تو یہی بہترین  تحفہ  ایک کڑا امتحان  بھی ہے ۔  انسانی  علم  کا بیشتر  حصہ صرف آنکھوں  کی بدولت ہے ۔ اور یہی  علم ہی  ایک بے  حد  کڑی  آزمائش ہے ۔  ایک پیدائشی اندھا  صرف لفظ  خوبصورتی  سے واقف ہو سکتا  ہے ۔  لیکن آنکھ  والا ہر  قسم کی خوبصورتی  اپنی آنکھ سے دیکھ سکتا  ہے ۔  اندھے  نے  چونکہ کچھ دیکھا ہی نہیں۔  اس لیے وہ دیکھنے اور مابعد  اثرات سے مامون رہتا ہے ۔ مگر  آنکھ والے  کیلئے  اکثر اوقات  دیکھ  لینا  عذاب  بن جاتا ہے ۔  اور اگر  دیکھنے  کے مابعد  اثرات  کی زد  میں آ جائے  تو  دوہرا عذاب درپیش ہے ۔
 خاکسار  کی ناقص فہم  کے مطابق یہاں آنکھوں  کے کہنے میں آنے کے دو مطلب نکلتے ہیں۔
1:۔ اپنی  آنکھوں  کے کہنے میں آ جانا۔
2:۔کسی اور کی آنکھوں  کے کہنے میں آ جانا۔
پہلی صورت کی مثال  ایسے  ہے  کہ   "الف "  نے  اپنی  آنکھوں  سے "سین" کو دیکھا ۔  الف  کی آنکھوں  نے     دماغ کو بتایا  کہ  میں  نے تصویر ِ کائنات  کی  سب سے رنگین  خوبصورتی دیکھی ہے ۔  اور الف  کے  دل  و دماغ پہ  "سین "  کی خوبصورتی  یوں  چھائی کہ  پیار  کی کونپل پھوٹ  پڑی ۔  اور آگے  کی کہانی کوئی  نئی نہیں۔
یہاں دل اور دماغ  کو  طعن نہیں کیا جا سکتا ۔ کیونکہ انہوں  نے خود  نہیں دیکھا ۔  صرف دیکھنے جانے  کا احوال  جانچا(پروسس کیا)۔  یہ کارستانی آنکھوں  کی تھی ۔ کہ نہ صرف انہوں نے دیکھنے کی   شرارت کی بلکہ دل و دماغ کو بھی ورغلایا ۔ 
دوسری صورت یعنی  کسی  دوسرے کی آنکھوں کے کہنے میں آنے کی مثال  یوں  ہوگی ۔ کہ "الف " جوگ کے  اثرات  کے  زیرِ اثر  ہونے کی وجہ سے   اپنی  آنکھوں کے کہنے  میں نہ آیا۔ اور  دیکھا گیا  سب کچھ نظر انداز  کیا ۔  مگر  یہاں  "سین" کی  آنکھوں  نے شرارت کی  اور آنکھوں  نے  آنکھوں  سے بات کی ۔ آنکھوں کی بھی ایک زبان ہوتی ہے ۔  جیسا کہ بقول کسے :۔ جھکیں  تو حیا۔  اٹھیں  تو دعا ۔  ملیں  تو ادا ۔  اور پھریں  تو قضا۔۔۔۔  اور سمجھنے والے سمجھتے ہیں  کہ آنکھوں  جب بولتی ہیں  تو بڑے سے بڑا جوگی  بھی مزاحمت کے قابل نہیں رہتا۔ اورپھر وہی ہوتا ہے جو ہمیشہ سے ہوتا  آیا  ہے ۔

جنہاں پاک نگاہاں ہویاں
کدی نئیں  جاندے ٹھگے

جن کی نگاہیں پاک ہیں
وہ کبھی فریب نہیں کھاتے


اسلام  میں  آنکھوں پر  قابو رکھنے کی بہت  تاکید  ہے ۔  پہلی نظر  انسان  کی اور دوسری  نظر شیطان کی  کہی گئی ہے ۔ آنکھوں کے کہنے میں آنے سے  بچاؤ  کیلئے انسان  کو  آنکھیں  جھکا کر  رکھنے کا حکم دیا گیا  ہے ۔
نگاہ پاک ہونے کا مطلب آنکھ  پر  دماغ  کا قابو  ہونا  ہے ۔  ظاہر  ہے جب  نگاہ  دماغ  کے قابو میں  ہوگی  تو وہ  دماغ کو ورغلا نہیں سکے  گی ۔ اور نتیجے میں انسان ممکنہ  فریب  سے  بچ جائے  گا۔  کیونکہ آنکھوں  کی صلاحیت  صرف  ظاہر  بینی  ہے ۔ یہ صرف ظاہر  دیکھ سکتی  ہیں۔        




کالے پٹ نہ چڑھی سفیدی
کانگ نہ تھیندے بگے


کالے پٹ پر سفیدی نہیں چڑھتی
کوے کبھی سفید نہیں ہو سکتے

اس شعر میں فطرت   نہ بدلنے والا نظریہ بیان ہوا  ہے ۔ جیسا کہ شیخ سعدی ؒ  بھی فرماتے ہیں(گلستانِ سعدی ۔۔۔ بابِ  اول ۔۔۔ در سیرت   پادشاہاں)
عاقبتِ گرگ زادہ گرگ شود
گر چہ با آدمی بزرگ شود
بھیڑئیے  کا بچہ فطرت میں بھیڑیا ہی ہے
چاہے  آدمی کے ساتھ  رہتا رہتا  بوڑھا  ہو جائے 
 حضرت  بابا بھلے شاہ ؒ نے بھی کچھ اسی قسم کا نکتہ بیان فرمایا ہے :۔ 
کوڑے کھوہ  مٹھے  نہ ہوندے، بھانویں سہ من  کھنڈ پائیے
سپاں  دے پتر  متر نہ ہوندے ، بھانویں  چنیاں دودھ پیائیے 
کڑوے  کنویں  (مستقل)میٹھےنہیں ہوتے چاہے  منوں  چینی ڈال دی جائے
سانپوں  کے بچے ( سنپولیے) کبھی  دوست نہیں ہوتے  چاہے چنیدہ دودھ  پلاتے  رہو
ہاں یہ ایک الگ بات ہے کہ ماحول  کے زیر اثر  فطری  جبلت   ہو سکتا ہے دبی رہے ۔ لیکن موقع  ملتے ہی  وہ   جبلت  اپنے آپ کو عیاں کر دیتی ہے ۔ اس  لیے کہا جا سکتا ہے  کہ  فطرت (جبلت)  کا نہ بدلنا ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔ جیسے کالے پٹھ  پر  قدرتی سفیدی کبھی نہیں آ سکتی ۔  اور کوا کبھی سفید  نہیں ہو سکتا ۔ مصنوعی  طور پر  ان  کو سیاہ و سفید  کربھی دیا جائے  تو وقتی طور پر ان کا اصلی  رنگ مصنوعی رنگ  کے نیچے دبا رہے گا ۔ لیکن جونہی پانی  یا کسی  اور چیز  کے اثر  سے مصنوعی رنگ اترا تو  اصلی رنگ پھر  اپنی  بہار دکھانے  لگے گا۔ 
  

شاہ حسین شہادت پاون
جو مرن متراں دے اگے

شاہ حسینؒ وہ شہید کا درجہ پاتے ہیں
جو دوستوں کے آگے جان دیتے ہیں

اس  شعر دوستی پر  جان دینے والوں  کو شہید کہا گیا ہے ۔ بے شک دوستی  کی  خاطر  کچھ بھی کر گزرنے والے  عظیم انسان ہوتے ہیں۔ انسان  اور اللہ  کا جو رشتہ  ہے اس کے ناطے  اللہ کی راہ میں جان دینے والوں  کو شہید  کہا جاتا ہے ۔ اور شہید  کے بارے  میں اللہ  تعالیٰ  کا فرمان ہے  کہ  شہید  کو مردہ  نہ کہو  بلکہ وہ  زندہ ہیں۔ (صرف یہی نہیں)بلکہ وہ اپنے  رب کے پاس  رزق بھی پاتے ہیں۔
اس قرآنی نص  کی رو سے  کہا جا سکتا ہے کہ حضرت شاہ حسین  ؒ  نے جاوداں زندگی کا راز بتایا ہے  ۔ 

Saturday, 14 September 2013

سمجھ ندانڑے


سمجھ ندانڑے ، تیرا ویندا وقت وہاندا


اے نادان  سمجھنے کی کوشش کر، تیرا وقت  بہتا جاتا ہے

ایہہ دنیا دو چار دیہاڑے، ویکھدیاں لد جاندا


یہ دنیا  دو چار دن ہے ، دیکھتے ہی دیکھتے  لد جائے گی

دولت  دینا ،مال ، خزینہ ، سنگ نہ کوئی لے جاندا

دولت ، جائیداد، مال ، خزانے ، کوئی ساتھ نہیں لے جاتا

مات ، پتا ، بھائی ، ست ، بنتا ، نال نہ کوئی جاندا

ماں ، باپ ، بھائی ،  بیٹا ، بیوی  کوئی ساتھ نہیں جاتا

کہے حسین فقیر نمانڑا ، باقی نام سائیں دا رہندا

بے چارا فقیر حسین کہتا ہے ، صرف اللہ کا نام ہی باقی رہنے والا ہے

Monday, 2 September 2013

پیارے لال کیا بھروسا دم دا

پیارے لال ! کیا بھروسا دم دا

پیارے لال !  زندگی کا کیا بھروسا؟

پیارے لال !  کا تخاطب  ہی  صوفیانہ شاعری  کے آفاقی  ہونے  کا ایک چھوٹا سا ثبوت ہے ۔  صوفیا کرام  نے اپنی عظیم شاعری میں  کسی مخصوص مذہب کے پیرو کاروں  یا کسی خاص طبقے کو  موضوع اور  مخاطب  نہیں بنایا ۔   صوفیا کرام کا درس خالق کی محبت اور اس کی مخلوق ہونے  کی نسبت انسانیت   سے پیار ہے ۔  چاہے وہ کسی  بھی خطے کا ہو  ، کسی بھی مذہب کا پیروکار ہو۔  ایک صوفی کی نظر میں وہ  صرف اللہ  کی مخلوق کے طور پر  معزز اور محترم ہے ۔ اور یہی وہ قدر ِ مشترک  ہے  جو   حضرت شاہ  حسینؒ  ، حضرت بابا بھلے شاہ ؒ ، حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ ، حضرت بابا فرید الدین  مسعودؒ  ، حضرت خواجہ  غلام  فرید  ؒ ،  میاں محمد بخش ؒ ،  رحمان  بابا ؒ   جیسے عظیم  مسلم  صوفیا کرام  کے علاوہ بابا  گرو نانک ،  بھگت کبیر کی  شاعری   میں ملتی ہے ۔
نہایت پیار  سے مخاطب کر کے زندگی  کی بے ثباتی   کو واضح  کرنے کیلئے سوالیہ  انداز اختیار  کیا گیا ہے ۔ کہ زندگی کا کیا بھروسا؟؟
اور یہی  بڑی  شاعری کا حسن   اور بڑے شاعر کی عظمت  ہے کہ وہ اپنے  نظریات  اور خیالات کسی پر ٹھونستا نہیں۔ بلکہ  سوچ  کے در وا کرنے کی تحریک دے کر  انسانی  ذہن  کو مہمیز  کرتا ہے ۔یہاں پر  شاہ  حسین  ؒ  اگر چاہتے تو سیدھا سیدھا کہہ سکتے تھے   کہ زندگی کا  کوئی  بھروسا نہیں۔  یہ بے ثبات ہے ۔  مگر  انہوں  نے انسانی  ذہن کو سوچنے  کیلئے ایک رخ دیا ۔   اس سے پوچھا  کہ سوچو  زندگی  قابلِ بھروسا  ہے یا نہیں۔ اس  سوال  کا جواب ڈھونڈنے  کیلئے  ہر دماغ  اپنی اپنی  وسعت کے مطابق سوچے گا ۔  کہ اگر زندگی قابل ِ بھروسا  ہے تو کیسے  ؟؟؟  اور اگر  بھروسا  کہ قابل نہیں تو وہ کون  سی وجوہات  ہیں جن  کی بنا پر  زندگی کو قابلِ بھروسا  نہیں مانا جا سکتا۔؟؟؟
قرآن مجید  کابھی یہی دلنشین انداز ہے ۔ بلکہ قرآن تو اندھا دھند  تقلید  کی مخالفت کرتا ہے ، اور کہتا ہے  کہ  دیکھو، پرکھو، سوچواور پھر جو سچ  ہو اس پر ایمان لاؤ۔قرآن مجید  حقائق،  تاریخی  واقعات  اور ان کے تجزیے  پیش کرکے  غور و فکر  کی دعوت دیتا ہے ۔  اور  عین  یہی اسلوب  آپ کو دنیا کے ہر بڑے ادب میں ملے گا۔ اور یہی انداز دیوانِ غالب ؔ کا  ہے ۔ جس  کی وجہ سے مجھ جیسے سر پھرے اسے الہامی کلام مانتے ہیں۔         

اُڈیا بھور ، تھیا پردیسی ، اگے راہ اگم دا

بھنورا  اڑا اور پردیسی ہوا ، آگے کا راستہ مزید آگے کا ہے 

زندگی  کے  ناقابلِ بھروسا ہونے کی مثال کے طور پر  یہ بات کہی ہے ۔ کہ  جب بھنورا  پھول سے اڑتا ہے تو پھر  وہ  پیچھے مڑ کر  اسی پھول  پر واپس  نہیں آتا ۔  کیونکہ آگے اسے  ایک  کے بعد ایک پھول ملتے جاتے ہیں۔ اور  وہ آگے ہی آگے کے سفر  پر روانہ رہتا ہے ۔  اسی  طرح  پیدائش  سے موت تک  کے دورانیے  میں انسانی  زندگی  کا سفر  آگے سے آگے  ہی جاری رہتا ہے ۔ وقت کبھی پیچھے  نہیں مڑتا ۔ انسان اپنا بچپن گزار کر جوانی  میں اور جوانی سے بڑھاپے میں داخل ہوتا ہے ۔ لیکن  کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انسان جوانی سے دوبارہ بچپن میں آجائے ۔   اور نہ ہی کبھی بوڑھا پھر سے جوان ہو سکتا ہے ۔  حتیٰ کہ موت  اسے آن دبوچتی ہے۔ لیکن  موت  بھی کوئی اختتام  نہیں ہے ۔ بلکہ موت تو  ایک  سنگِ  میل  ہے  ،اس کے بعد  بھی ایک سفر  ہے ۔  جسم  اسی دنیا  کا تھا  اسی دنیا میں رہے گا  جب کہ روح کو برزخ  کا سفر  کرنا  ہے ۔  اور برزخ  سے آگے بھی سفر  ہے ۔  یعنی بقول ِ اقبال  :۔ " ابھی عشق  کے امتحاں  اور بھی ہیں"

کوڑی دنیا ، کوڑا پسارا ، جیوں موتی شبنم دا

دنیا جھوٹ ہے ، دنیا داری جھوٹ ہے ، جیسے شبنم کا موتی

اس مصرعے میں  دنیا کابے حقیقت ہونا  ثابت کیا  گیا ہے ۔  اہلِ  نظر  کے نزدیک  یہ دنیا اور مافیہا   محض فریبِ نظر ہے ۔  اس کی حقیقت  کچھ نہیں۔یہ دنیا صرف  ایک سراب  ہے  جھوٹ ہے ۔  دنیا  داری  تمام کی تمام  جھوٹ  ہے جیسا  کہ  غالب  ؔ  کا بھی یہی فرمان ہے :۔
ہے غیب  ِغیب ،   جس کو   سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں    خواب میں ہنوز،جو جاگے ہیں خواب میں
لیکن دنیا کو  تو ہم اپنی آنکھوں  سے  دیکھتے ہیں، اسے  محسوس بھی کرتے ہیں پھر یہ کس طرح  جھوٹ  ہو سکتی ہے  ۔؟؟  اس کی مثال شبنم  کا قطرہ ہے ۔  شبنم کے قطرے کو آنکھیں  دیکھتی ہیں ۔  دیکھنے میں چمکدار  موتی نظر آنے والا وہ  قطرہ محض چند منٹ کا  مہمان  ہوتا ہے ۔  اسے  چھوا جا سکتا ہے  لیکن چھوتے ہی وہ موتی ختم ہو جاتا  ہے ۔  نہ بھی چھوا جائے تو  سورج  کی تمازت  سے  چند منٹ میں معدوم ہو جاتا ہے ۔  بقول  غالب  :۔
پرتوِ خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک
عین  اسی  طرح  یہ دنیا  اور دنیا داری  اپنے تمام  تر وجود  کے باوجود  در حقیقت  بے حقیقت ہے ۔ اور صرف   موت  کی ہچکی  ہی اسے  معدوم  کرنے کو  کافی  ہے ۔  اور قرآن مجید  ہمیں میدانِ حشر  میں اٹھ کھڑے ہونے والوں  کے الفاظ سناتا ہے کہ وہ کہیں گے   ابھی تو ہم سوئے تھے یہ کس نے ہمیں  جگا دیا ۔  اور دنیا  میں ہم نے واقعی زندگی گزاری ہے یا محض خواب  میں دیکھا  ہے۔ اگر   ایک سو سال سے زائد عمریں  گزار کر جانے والے  بھی دنیا کی زندگی کو  خواب سمجھیں گے تو پھر  سمجھنا کوئی مشکل نہیں  کہ  یہ ہستی نہیں عدم ہے۔
  اس  نظریے کی بہترین ترجمانی ہمیں دیوانِ غالبؔ  میں   جابجا ملتی  ہے ۔
ہستی کے مت فریب  میں  آ جائیو  اسدؔ
عالم تمام حلقہ  دامِ خیال ہے 
جز  نام ،نہیں صورتِ عالم مجھے منظور
جزوہم  ،نہیں ہستیِ  اشیا  ء ،میرے آگے


جینہاں میرا شوہ رجھایا ، تینہاں نوں بھو جم دا

جنہوں  نے میرے محبوب کو رجھایا ، انہیں موت کے فرشتے کا کیا ڈر

اس زندگی  کا مقصد  کیا  ہے ۔ جس  نے یہ سمجھ لیا اور پھر  اس مقصد  کو  پورا کرنے کی کوشش کی  ۔  اس  نے اپنی ذمہ داری   پوری  کی ۔  اور جیسا کہ  شیخ سعدی  ؒ فرماتے ہیں:۔ "آں را  کہ حساب پاک است ۔  از محاسبہ چہ باک است"(جس کا حساب پاک ہے ۔ اسے محاسبہ کا  کیا ڈر)
اگر  کچھ دیر  کیلئے کمرہ امتحان کا منظر اپنے ذہن  میں لائیں تو واضح  ہو جاتا ہے ۔ کہ لائق طالب علم  پرچہ حل کرتے وقت  کسی خوف کا شکار نہیں ہوتے ۔ اور  ان کی کوشش  ہوتی ہے کہ اس  مخصوص وقت میں اپنا پرچہ حل کر لیں۔  اور جیسے ہی ان کا  پرچہ حل ہوتا ہے   وہ  اپنا جوابی پرچہ نگران  کو پکڑا کر  خوشی سے چلے جاتے ہیں۔ جبکہ ایسے  طالب علم جنہوں  نے  اپنا تعلیمی  سال غیر  متعلقہ سر گرمیوں اور  کھیل کود میں گزار  دیا ہو ، ان  کے چہرے  سے  ٹپکتی فکرمندی دیکھنے  کیلئے کسی خورد بین  یا دور بین کی ضرورت نہیں ہوتی۔  ان  کو 3  گھنٹے کا وقت  بھی بہت کم ہوتا ہے۔  اور جب تین گھنٹے بعد ان سے پرچہ لیا جاتا ہے تو تب بھی  ان کا  پرچہ  مکمل  حل شدہ نہیں ہوتا ۔  ایسے طالب علموں  کو  نتیجہ کا دن  آنے تک  یہی خوف  رہتا ہے کہ پتا نہیں پاس ہونگے بھی یا نہیں۔
عین اسی  طرح  یہ دنیا بھی  امتحان گاہ ہے ۔  لائق  بندے اور اللہ کے سچے طالب  اپنی توجہ  اپنے امتحانی پرچے پر  مرکوز  رکھتے ہیں۔  جس طرح  ایک     اچھا  طالب علم   اول آنے  کیلئے  یا کم از کم کسی  پوزیشن کا حقدار قرار پانے کیلئے ہر  پہلو   یعنی خوشخطی  ، صفائی  ،  مناسب شہ سرخیاں، پیرا گراف  کی تقسیم  سے   اچھا پرچا حل   کرنے کی کوشش  کرتا ہے۔ اسی  طرح اللہ کے سچے طالب  ہر  وہ  کام کرنے  پر  تلے  رہتے ہیں، جس کام میں اللہ کی خوشنودی  ہو۔
پس  جن کی تمام تر توجہ صرف اللہ  کی رضا اور  اس کی خوشنودی  پر  ہوتی ہے ۔ انہیں دنیاوی اسباب  کی پرواہ  ہوتی ہے نہ ہی وہ کسی  بھی بڑی سے بڑی مصیبت سے گھبراتے ہیں۔ کیونکہ ان کا اپنے اللہ پر ایمان  پختہ ہوتا ہے ۔   جیسا کہ ایک عام بات ہے  دنیا میں سب سے بڑا ڈراوا، اور خوف موت کا ہے ۔  دنیاوی سزاؤں میں سب سے بڑی سزا بھی موت کی سزا گردانی  جاتی ہے ۔  مگر  اللہ  والے دنیا کو عقوبت خانہ ، زندان خانہ  اور  موت کو  نجات کہتے ہیں۔   اکثر صوفیا  نے موت  آنے کو محبوب سے وصال  کی خوشخبری  کہا ہے ۔ ظاہر  ہے  جن کا محبوب ان سے راضی  ہے  انہیں موت یا موت کے فرشتے کا کیا ڈر۔۔۔۔؟؟؟


کہے حسین فقیر سائیں دا، چھوڑ سریر بھسم دا

اللہ کا فقیر حسین کہتا ہے ، یہ راکھ کا جسم چھوڑ دو

یہ مصرعہ فنا فی اللہ  ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے جسم  کی محبت کی بجائے  روحانیت کی تعلیم  دیتا ہے ۔
 انسان دو  چیزوں  کا مجموعہ ہے ۔ 1:۔  جسم   2 :۔ روح
ایک کے غلبے  کی صورت میں  ظاہر  ہے دوسرے کو مغلوب ہونا ہی پڑے گا ۔  ایسا تو نہیں ہو سکتا  کہ دونوں  ہی  کا غلبہ ہو۔ اگر  ہو  بھی تو بھی  وہ غلبہ نامکمل ہوگا ۔
جسم  کے  غلبے کی صورت میں روح کو مغلوب ہو نا پڑتا ہے ۔  اور روح  کے غلبے  کیلئے جسم  کا مغلوب ہونا لازمی ہے ۔  
جسم فانی  ہے ،  جب کہ اس کے مقابلے میں روح امر ہے ۔  جسم  کا خمیر  مٹی سے ہے جبکہ روح  جنسِ لطیف  ہے اور  سراسر نورانی ہے ۔ایسے  میں عقل کا تقاضا یہی  ہے کہ بجائے  ایک فانی اور  جنسِ کثیف  جسم  کو پالنے کی بجائے ایک امر  اور نورانی جنس  لطیف  کو مضبوط کیا جائے ۔ جو ہمیشہ ساتھ رہنی  ہے ۔ اور جو انسان کی اصل ہے ۔  کیونکہ موت کے بعد جسم تو اسی دنیا کی امانت ہے اسی دنیا میں رہ جائے گا ۔برزخ اور  آخرت  کا سفر   روح نے کرنا ہے ۔ اس لیے  بہتر  یہی  ہے کہ روح  کو طاقتور بنایا جائے ۔     

 
سرائیکی وسیب - ،، اساں بہوں تھوریت ہیں جناب ذوالقرنین سرور سائیں دے