ہن تھی فریدا شاد ول جھوکاں تھیسن آباد ول

Sunday, 22 September 2013

نی سیو اساں نیناں دے آکھے لگے


نی سیو اساں نیناں دے آکھے لگے

اے دوست  ہم آنکھوں کے کہنے میں آگئے

سیو   سہیلی  کو  کہتے ہیں۔   انسانی فطرت  ہے  کہ  انسان اپنی  راز کی باتیں صرف اپنے  گہرے دوستوں  اور سہیلیوں سے  کہتے ہیں۔ حضرت شاہ حسین  ؒ کی لازوال  شاعری کا یہ ایک خاص اسلوب  اور خاص استعارہ  ہے ۔  یعنی ایک الہڑ  مٹیار  اپنی گہری سہیلی سے اپنے دل  کے راز  کہہ رہی  ہے ۔  
جیسا  کہ  اس  شعر میں   میں سہیلی کو  مخاطب کر  کے فرمایا ہے  کہ " نی سیو"  ہم  آنکھوں کے  کہنے  میں آ گئے ۔ آنکھ  اللہ  تعالیٰ  کا  بہترین  تحفہ ہے جو اس  نے انسان  کو دیا  لیکن  اگر  دیکھا جائے  تو یہی بہترین  تحفہ  ایک کڑا امتحان  بھی ہے ۔  انسانی  علم  کا بیشتر  حصہ صرف آنکھوں  کی بدولت ہے ۔ اور یہی  علم ہی  ایک بے  حد  کڑی  آزمائش ہے ۔  ایک پیدائشی اندھا  صرف لفظ  خوبصورتی  سے واقف ہو سکتا  ہے ۔  لیکن آنکھ  والا ہر  قسم کی خوبصورتی  اپنی آنکھ سے دیکھ سکتا  ہے ۔  اندھے  نے  چونکہ کچھ دیکھا ہی نہیں۔  اس لیے وہ دیکھنے اور مابعد  اثرات سے مامون رہتا ہے ۔ مگر  آنکھ والے  کیلئے  اکثر اوقات  دیکھ  لینا  عذاب  بن جاتا ہے ۔  اور اگر  دیکھنے  کے مابعد  اثرات  کی زد  میں آ جائے  تو  دوہرا عذاب درپیش ہے ۔
 خاکسار  کی ناقص فہم  کے مطابق یہاں آنکھوں  کے کہنے میں آنے کے دو مطلب نکلتے ہیں۔
1:۔ اپنی  آنکھوں  کے کہنے میں آ جانا۔
2:۔کسی اور کی آنکھوں  کے کہنے میں آ جانا۔
پہلی صورت کی مثال  ایسے  ہے  کہ   "الف "  نے  اپنی  آنکھوں  سے "سین" کو دیکھا ۔  الف  کی آنکھوں  نے     دماغ کو بتایا  کہ  میں  نے تصویر ِ کائنات  کی  سب سے رنگین  خوبصورتی دیکھی ہے ۔  اور الف  کے  دل  و دماغ پہ  "سین "  کی خوبصورتی  یوں  چھائی کہ  پیار  کی کونپل پھوٹ  پڑی ۔  اور آگے  کی کہانی کوئی  نئی نہیں۔
یہاں دل اور دماغ  کو  طعن نہیں کیا جا سکتا ۔ کیونکہ انہوں  نے خود  نہیں دیکھا ۔  صرف دیکھنے جانے  کا احوال  جانچا(پروسس کیا)۔  یہ کارستانی آنکھوں  کی تھی ۔ کہ نہ صرف انہوں نے دیکھنے کی   شرارت کی بلکہ دل و دماغ کو بھی ورغلایا ۔ 
دوسری صورت یعنی  کسی  دوسرے کی آنکھوں کے کہنے میں آنے کی مثال  یوں  ہوگی ۔ کہ "الف " جوگ کے  اثرات  کے  زیرِ اثر  ہونے کی وجہ سے   اپنی  آنکھوں کے کہنے  میں نہ آیا۔ اور  دیکھا گیا  سب کچھ نظر انداز  کیا ۔  مگر  یہاں  "سین" کی  آنکھوں  نے شرارت کی  اور آنکھوں  نے  آنکھوں  سے بات کی ۔ آنکھوں کی بھی ایک زبان ہوتی ہے ۔  جیسا کہ بقول کسے :۔ جھکیں  تو حیا۔  اٹھیں  تو دعا ۔  ملیں  تو ادا ۔  اور پھریں  تو قضا۔۔۔۔  اور سمجھنے والے سمجھتے ہیں  کہ آنکھوں  جب بولتی ہیں  تو بڑے سے بڑا جوگی  بھی مزاحمت کے قابل نہیں رہتا۔ اورپھر وہی ہوتا ہے جو ہمیشہ سے ہوتا  آیا  ہے ۔

جنہاں پاک نگاہاں ہویاں
کدی نئیں  جاندے ٹھگے

جن کی نگاہیں پاک ہیں
وہ کبھی فریب نہیں کھاتے


اسلام  میں  آنکھوں پر  قابو رکھنے کی بہت  تاکید  ہے ۔  پہلی نظر  انسان  کی اور دوسری  نظر شیطان کی  کہی گئی ہے ۔ آنکھوں کے کہنے میں آنے سے  بچاؤ  کیلئے انسان  کو  آنکھیں  جھکا کر  رکھنے کا حکم دیا گیا  ہے ۔
نگاہ پاک ہونے کا مطلب آنکھ  پر  دماغ  کا قابو  ہونا  ہے ۔  ظاہر  ہے جب  نگاہ  دماغ  کے قابو میں  ہوگی  تو وہ  دماغ کو ورغلا نہیں سکے  گی ۔ اور نتیجے میں انسان ممکنہ  فریب  سے  بچ جائے  گا۔  کیونکہ آنکھوں  کی صلاحیت  صرف  ظاہر  بینی  ہے ۔ یہ صرف ظاہر  دیکھ سکتی  ہیں۔        




کالے پٹ نہ چڑھی سفیدی
کانگ نہ تھیندے بگے


کالے پٹ پر سفیدی نہیں چڑھتی
کوے کبھی سفید نہیں ہو سکتے

اس شعر میں فطرت   نہ بدلنے والا نظریہ بیان ہوا  ہے ۔ جیسا کہ شیخ سعدی ؒ  بھی فرماتے ہیں(گلستانِ سعدی ۔۔۔ بابِ  اول ۔۔۔ در سیرت   پادشاہاں)
عاقبتِ گرگ زادہ گرگ شود
گر چہ با آدمی بزرگ شود
بھیڑئیے  کا بچہ فطرت میں بھیڑیا ہی ہے
چاہے  آدمی کے ساتھ  رہتا رہتا  بوڑھا  ہو جائے 
 حضرت  بابا بھلے شاہ ؒ نے بھی کچھ اسی قسم کا نکتہ بیان فرمایا ہے :۔ 
کوڑے کھوہ  مٹھے  نہ ہوندے، بھانویں سہ من  کھنڈ پائیے
سپاں  دے پتر  متر نہ ہوندے ، بھانویں  چنیاں دودھ پیائیے 
کڑوے  کنویں  (مستقل)میٹھےنہیں ہوتے چاہے  منوں  چینی ڈال دی جائے
سانپوں  کے بچے ( سنپولیے) کبھی  دوست نہیں ہوتے  چاہے چنیدہ دودھ  پلاتے  رہو
ہاں یہ ایک الگ بات ہے کہ ماحول  کے زیر اثر  فطری  جبلت   ہو سکتا ہے دبی رہے ۔ لیکن موقع  ملتے ہی  وہ   جبلت  اپنے آپ کو عیاں کر دیتی ہے ۔ اس  لیے کہا جا سکتا ہے  کہ  فطرت (جبلت)  کا نہ بدلنا ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔ جیسے کالے پٹھ  پر  قدرتی سفیدی کبھی نہیں آ سکتی ۔  اور کوا کبھی سفید  نہیں ہو سکتا ۔ مصنوعی  طور پر  ان  کو سیاہ و سفید  کربھی دیا جائے  تو وقتی طور پر ان کا اصلی  رنگ مصنوعی رنگ  کے نیچے دبا رہے گا ۔ لیکن جونہی پانی  یا کسی  اور چیز  کے اثر  سے مصنوعی رنگ اترا تو  اصلی رنگ پھر  اپنی  بہار دکھانے  لگے گا۔ 
  

شاہ حسین شہادت پاون
جو مرن متراں دے اگے

شاہ حسینؒ وہ شہید کا درجہ پاتے ہیں
جو دوستوں کے آگے جان دیتے ہیں

اس  شعر دوستی پر  جان دینے والوں  کو شہید کہا گیا ہے ۔ بے شک دوستی  کی  خاطر  کچھ بھی کر گزرنے والے  عظیم انسان ہوتے ہیں۔ انسان  اور اللہ  کا جو رشتہ  ہے اس کے ناطے  اللہ کی راہ میں جان دینے والوں  کو شہید  کہا جاتا ہے ۔ اور شہید  کے بارے  میں اللہ  تعالیٰ  کا فرمان ہے  کہ  شہید  کو مردہ  نہ کہو  بلکہ وہ  زندہ ہیں۔ (صرف یہی نہیں)بلکہ وہ اپنے  رب کے پاس  رزق بھی پاتے ہیں۔
اس قرآنی نص  کی رو سے  کہا جا سکتا ہے کہ حضرت شاہ حسین  ؒ  نے جاوداں زندگی کا راز بتایا ہے  ۔ 

2 تہاڈی صلا:

حسیب احمد نذیر گِل said...

بہترین شاعری کی خوبصورت تشریح

چھوٹا غالب said...

شکریہ حسیب بابا
پڑھنے اور تبصرے سے حوصلہ افزائی کی
جزاک اللہ

Post a Comment

 
سرائیکی وسیب - ،، اساں بہوں تھوریت ہیں جناب ذوالقرنین سرور سائیں دے