ہن تھی فریدا شاد ول جھوکاں تھیسن آباد ول

Saturday, 23 March 2013

سرائیکی وسیب کے مقبول کھیل

صدیوں سے آباد سرائیکی خطہ اپنے اندر زندگی کے سبھی رنگ سموئے ہوئے ہے ۔ مسلسل حملہ آوری کے باوجود بھی اس خطے کے لوگوں نے اپنی زبان و ثقافت کو سینے سے لگائے رکھا۔ شاعری کا میدان ہو یا کھیلوں کا میدان اس خطے نے اپنی ہمسایہ اقوام کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ انہیں اپنی طرف توجہ بھی کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج سرائیکی شاعری پسندیدگی کے اعتبار سے سرحدیں پار کر چکی ہے ۔ اور سرائیکی شاعری کی مانند سرائیکی خطے میں کھیلا جانے والا کھیل "گھرمے آلی گوڑھی" آج کرکٹ کی شکل میں پوری دنیا پر راج کر رہا ہے۔
یوں تو سرائیکی خطے میں کھیلے جانے والے بچوں کے کھیلوں کی ایک لمبی فہرست ہے ۔ مگر یہاں میں چند مشہور ترین کھیلوں کا تذکرہ کروں گا جو سرائیکی وسیب کے بچوں میں بہت مقبول ہیں۔

 باندر کِلہ

یہ سرائیکی خطے کے بچوں کا مقبول ترین کھیل ہے ۔ اسے خواتین بھی شوق سے کھیلتی ہیں ۔
اس کھیل کیلئے ایک عدد رسی ، کِلے ( کھونٹے) اور چند جوتوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ باری دینے والا کھلاڑی رسے کو پکڑ کر کِلے کے اردگرد گھومتا ہے جبکہ دوسرے کھلاڑی پھرتی سے کلے کے قریب پڑے جوتے اٹھاتے ہیں ۔ اگر سارے جوتے اٹھا لیے جائیں تو وہ رسی چھوڑ کر" پیڑ " (منزل مقصود)کی طرف دوڑتا ہے ، اور باقی کھلاڑی اس پر جوتوں کی بارش کر دیتے ہیں ۔ اگر کوئی کھلاڑی جوتا اٹھانے کی کوشش کے دوران پکڑا جائے تو وہ "سڑ" جاتا ہے اور پھر وہ باری دیتا ہے


شیدن

یہ کھیل بھی سرائیکی خطے کے دیہاتوں اور شہروں میں یکساں مقبول ہے ۔ اس کھیل کیلئے ایک عدد پِھکری (ٹھیکری) کی ضرورت پڑتی ہے ، جسے گول کر لیا جاتا ہے۔کھلاڑی زمین پر ایک بڑا سا ڈبہ بنا کر اس کے خانے بنا لیتے ہیں ، اور باری باری ٹھیکری کو ان خانوں میں ڈال کر ایک ٹانگ کے ذریعے اسے باہر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ، اگر تمام خانوں سے کامیابی سے ٹھیکری کو باہر نکال لیا جائےتو وہ کھلاڑی جیت جاتا ہے ، اگر کامیاب نہ ہو سکے تو ظاہر ہے ہار جاتا ہے ۔ پھر دوسرا کھلاڑی اسی ترتیب سے کھیل کھیلتا ہے


ڈیٹی ڈنڈا (گلی ڈنڈا)

یہ کھیل ویسے تو پورے پاکستان میں کھیلا جاتا ہے لیکن سرائیکی خطے میں اس کی اہمیت و نوعیت منفرد ہے ، یہ کھیل بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول ہے ۔ یہ کھیل کئی طریقوں سے کھیلا جاتا ہے۔ اس کھیل کیلئے ایک ڈیٹی (گلی) اور ڈنڈے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایک ٹیم جب مطلوبہ نمبر (پوائنٹ) بنا لیتی ہے تو دوسری ٹیم سزا کے طور پر مخصوص آواز نکالتے ہوئے پیڑ تک آتی ہے ۔ یہ کھیل بارش کے دنوں میں زیادہ کھیلا جاتا ہے ۔ اس کھیل سے ایک تو کھلاڑی چست و چالاک ہو تے ہیں ، دوسرا وہ نظم و ضبط بھی سیکھتے ہیں


چیکل

یہ ایسا کھیل ہے جو صرف گرمیوں میں کھیلا جاتا ہے ۔ اسے لڑکیاں بہت شوق سے کھیلتی ہیں ۔ ایک ماہر بڑھئی سے چیکل تیار کروانے کے بعد اسےکسی گھر میں موجودسایہ دار درخت کے نیچے نصب کر دیا جاتا ہے ۔ دوپہر کے وقت لڑکیاں اور خواتین اس پر بیٹھتی ہیں اور چیکل کھیلتی ہیں ۔ چیکل کے گھومنے والی جگہ پر کولے (کوئلے) ڈالے جائیں تو اس سے زوردار آواز پیدا ہو تی ہے ۔


لاٹو (لٹو)

لاٹو بھی سرائیکی خطے کے بچوں اور لڑکوں کا من بھاتا کھیل ہے ۔ بڑھئی سے خوبصورت رنگ برنگے لاٹو تیار کروائے جاتے ہیں ، نوک کے طور پر لاٹو میں لوہے کا کیل بھی نصب کیا جاتا ہے ۔لاٹو گھمانے کیلئے ایک رسی بھی درکار ہوتی ہے۔آج کل مارکیٹ سے بھی خوبصورت لاٹو بنے بنائے مل جاتے ہیں، جنہیں دیہاتی شوق سے خریدتے ہیں۔ دیہات میں کسی بڑے سایہ دار درخت کے نیچے اس کا میچ لگتا ہے ۔ کچھ بڑے لاٹوں کے گھمانے کا کھیل کھیلتے ہیں ، کچھ ایک دوسرے کے لاٹو کو اپنے لاٹو سے مارنے کا ۔ اس کھیل میں لاٹو ٹوٹ بھی جاتے ہیں ۔


لُک چھپ

یہ ایسا کھیل ہے جو سردیوں ، گرمیوں میں کھیلا جاتا ہے۔ یہ لڑکوں اور لڑکیوں میں یکساں مقبول ہے ۔ اسے کھیلنے کے مختلف طریقے ہیں ۔ ٹاس ہارنے والا پیڑ (منزل مقصود) پر کھڑا ہو جاتا ہے (آنکھیں بند کر کے) باقی کھلاڑی اسے چھپ کر آواز دیتے ہیں ۔ وہ چکے سے انہیں پکڑنے کی کوشش کرتا ہے ، اگر کوئی پکڑا جائےتو ٹھیک ورنہ وہ بار بار باری دیتا ہے ۔ اکثر اوقات یہ کھیل رات گئے تک بھی جاری رہتا ہے ۔


نوڑا وٹ ۔ کوکلا چھپاکی

یہ کھیل بھی لڑکے اور لڑکیاں شوق سے کھیلتے ہیں ، دیہاتوں اور شہروں یکساں طور پر مقبول ہے ۔ اس کھیل کیلئے کپڑے کے ایک نوڑے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کپڑے کو بل دے کر(وٹ کے) اس کا ایک کوڑا بنا لیا جاتا ہے ۔ باری دینے والا اسے ہاتھ میں پکڑ کر گول دائرے میں بیٹھے کھلاڑیوں کے گرد گھومنے کے دوران چپکے سے نوڑے (کوڑے) کو کسی کے پیچھے رکھ دیتا ہے ۔ اگر اسے پتہ چل جائے تو تو اسے اٹھا کر باری دینے والے کے پیچھے بھاگ کر اسے مارتا ہے ۔ اگر وہ خالی جگہ پر بیٹھ جائے تو مار سے محفوظ ہو جاتا ہے ۔ اگر جس کے پیچھے نوڑا پڑا ہو اسے پتا نہ چلے تو وہ مار کھاتا ہے ۔


ہِل کانگڑہ/لُنڈی /ون چڑھ

یہ دیہاتی بچوں میں بہت شوق سے کھیلے جانے والا کھیل ہے ۔گرمیوں کی چھٹیوں میں بچے باغوں میں اس کا خاص اہتمام کرتے ہیں۔اس کھیل میں ایک ڈنڈا مرکزی کردار ادا کرتا ہے ۔ ٹاس ہارنے والا کھلاڑی درخت کے نیچے کھڑا ہو جاتا ہے ۔ جبکہ باری لینے والوں میں سے ایک اس ڈنڈے کو اپنی ٹانگ کے نیچے سے دور پھینکتا ہے ۔ باقی کھلاڑی درختوں پر چڑھ جاتے ہیں ۔ باری دینے والا ڈنڈے کو اٹھا کر اس درخت کے نیچے رکھ کر خود درخت پر چڑھ جاتا ہے ، تاکہ کسی کو پکڑ سکے۔ دوسرے کھلاڑی پھرتی سے نیچے اتر کر اس ڈنڈے کو اٹھا لیتے ہیں ۔ اگر کوئی پہلے پکڑا جائے تو وہ باری دیتا ہے ۔ اس طرح یہ کھیل شام تک جاری رہتا ہے۔


بیلو بیلو

یہ ایسا کھیل ہے جو شام کے وقت کھیلا جاتا ہے۔ اس کھیل کیلئے دو ٹیمیں تشکیل دی جاتی ہین ۔ دونوں ٹیموں کے کپتان تھوڑے فاصلے پر بیٹھ جاتے ہیں اور نزدیکی بستی کے کسی درخت یا جانور کا نام ذہن میں رکھ کر کھلاڑیوں سے پوچھتے ہیں :۔" بیلو بیلو کجھی وچوں کھجی چنو"۔
دونوں ٹیموں میں سے کوئی پہلے بوجھ لے تو وہ ٹیم دوسری ٹیم کے کھلاڑیوں کی پشت پر بیٹھ کر کپتانوں کے پاس آتی ہے ۔ یہ ہارنے والی ٹیم کیلئے ایک سزا ہوتی ہے ۔ یہ نہایت ہی دلچسپ کھیل ہے جو رات گئے تک جاری رہتا ہے ۔


بچپن یاد آیا کہ نہیں؟۔ ان میں سے کون کون سے کھیل آپ اپنے بچپن میں کھیلتے رہے ہیں۔؟

Thursday, 14 March 2013

حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کے کلام کی تضمین

حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کے کلام کی تضمین

از

جناب ملک حبیب صاحب


ساکو ہک ہے تیڈی یار طلب
دِل ڈولے کھاوے نال کرب
ہے ہجر دی لمبڑی رات غضب
اتھاں میں مُٹھڑی نِت جان بلب
سوہنا خوش وسدا وِچ مُلک عرب

جِند نال ڈُکھاں دی لانب لگی
ونج جِگر دے وِچ ہے ساہنگ لگی
رہ عشق تے دلڑی اڑاہنگ لگی
ہر ویلے یار دی تاہنگ لگی
سُنجے سینے سِکدی ساہنگ لگی
ڈُکھی دِلڑی دے ہتھ ٹاہنگ لگی
تھئے مِل مِل سول سمولے سپ

دو عالم تھیں ایہہ دِل ہٹیا
جَڈاں عِشق تیڈا ہے میں کھٹیا
ونج ہِجر دی بھاہ وِچ اینہہ سَٹیا
جیں ڈینہہ دا نِینہ شِینہ پَھٹیا
لگی نیش ڈُکھاندی عیش گھٹیا
سبھ جوبن جوش خروش گھٹیا
سُکھ سَڑ گئے مر گئی طرح طرب

تیڈے ناں دا وِرد پُکار پِھراں
ہر تھاویں لبھدی یار پِھراں
گل پا تے ڈُکھاں دے ہار پِھراں
تتی تھی جوگن چو دھار پِھراں
ہند سِندھ پنجاب تے ماڑ پِھراں
سنجبار تے شہر بازار پِھراں
متاں یار مِلم کئی سانگ سبب

تُو شاہ میڈا میں باندڑی ہاں
در تیڈے دے ٹکڑے لاندڑی ہاں
میں گندڑی کوہجڑی ماندڑی ہاں
توڑے دِکھڑے دھوڑے کھاندڑی ہاں
تیڈے ناں تے مُفت وِکاندڑی ہاں
تیڈے باندیاں دی میں باندڑی ہاں
تیڈے دَر دے کُتیاں نال ادب

بے مِثل حبیب میڈا شاہِ حُسن
جیہندے پیراں دی خاک ایہہ سُورج چن
لَکھ یوسف دَر تے ہو بَردے وِکن
واہ سوہنا ڈھولن یار سجن
واہ سانول ہوت حِجاز وطن
آ ڈیکھ فرید دا بیتِ حُزن
ہم روز ازل توں تاہنگ طلب


بصد شکریہ جناب ملک حبیب صاحب

Tuesday, 12 March 2013

پانڑیں



سرائیکی افسانہ

پانڑیں



واہ واہ ہے، اللہ بادشاہ اے، کاغذ دی بیڑی اے ، کبوتر ملاح اے ،۔
کپڑی مائی سُتی پئی اے ، اُٹھ سراندی ڈتی پئی اے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاڈا جند وڈا قصے دا تھل بدھیندا بیٹھے تے نال نال بھاہ وی پھلریندا بیٹھے۔
سارے کئو کیتی بیٹھن پر سانول کو عجیب اچوی ہے ، کہیں ویلے کہیں چُنڈ اِ چ باہندے تے کہیں ویلے کہیں چُنڈ اِچ، ساری مجلس کو بے چسا کیتی بیٹھے۔
ڈاڈا ڈاڈھی ٹیرویلی کھاندے پر صبر دا گُھٹ بھر دے قصے اِچ رُجھ ویندے
۔

مارکہ ! ہِک ہا بادشاہ ، بادشاہ تاں اللہ آپ اے، او ہِک ٹوٹے زمین دا بادشاہ ہا۔بادشاہ موت توں ڈاڈھا ڈرداہا۔"
موت دا ذکر کریندے خود ڈاڈے دی وی چھرکی نکل گئی ۔ نال بیٹھے ڈیوائے اپنا سر گوڈیاں اچ چا ڈتا۔
"خیر مارکہ بادشاہ موت دے ڈر پاروں اپنے اندروں باہروں  فوج رکھیندا ہئ ۔ ول ہِک وڈا محل بنوایس۔ جیندے آسون پاسوں  ہِک وڈی فصیل ہئی تاں جو موت اندر نہ وڑے ۔ ہِک ڈیہاڑے ہِک وزیر بادشاہ کوں مشورہ ڈِتا۔ بادشاہ سلامت ! اِتھاؤں ترائے ڈیہاڑیں دے پندھ تے ہِک پہاڑ اے، پہاڑ اِچ ہِک تلا اے، جے تساں اوندا پانی پی گِھنو تاں او پانی آبِ حیات اے تہاکوں کڈاہیں موت کائناں آسی ۔ بادشاہ ایہہ گالھ سُن تے منادی کرادتی بھئی جیڑھا جوان ایہہ پانی بھر آسی اونکوں میں  ادھی شاہی دان کریساں۔ لوگ لالچ اِچ آگئے ، اُنھاں ڈاڈھے تن مارئیے پر پانی بھر تے کوئی وی نہ ولیا تے ول ہِک ڈیہاڑے ۔۔۔۔۔"
قصہ سُنیندے سُنیندے ڈاڈے سنگت کوں جو ڈِٹھا سارے اُباسیاں بیٹھے ڈیندے ہن ۔ ڈاڈے آکھیا :۔ "مارکہ!اج اتنا کافی ہے اگوں دا واقعہ کلھ رات سُنیساں ۔"  ایہہ گالھ کر ڈاڈا مُسک پیا ۔ اسمان دُو ڈیکھ آپ مرادا آہدے :۔"واہ اللہ سئیں آں ! ساڈے چیتے وی نینگریں وانگوں بناویں ہا ۔ بے فکرے رُلوں ہا ، بے فکرے سموں ہا ۔ "ول ڈاڈے دم درود پڑھیا ہِک پُھوکا اپنے بُت کوں ماریُس تے ڈُوجھا وستی کوں تے ول کلمہ پڑھ تے سم پیا۔


ایڈوں سانول اونویں بے چسا بیٹھا ہا ۔ کہیں ویلے اُٹھی باہوے ، کہیں ویلے دگھر ونجے۔ ہر ویلے  پانی بارے سوچے ۔ سانول اللہ ڈِتے مور دا وڈا پُتر ہئی، او پانی برن واسطے سوچیندا ، ول خیال آندس  جو ایہہ کم آپے تھی ونجے ہا تاں کیڈا چنگا ہا ۔ ول او پانی دا سوچ تے پریشان تھی ویندا تے دِل اِچ پانی بھر آون دے منصوبے بنیندا۔
چاچی پھاپھل کئی واری سانول کوں کانواں آلی سرکار دی زیارت کروا آئی ۔ پانی پڑھوا تے پلوایس۔ ڈولے نال تعویز بدھیس ۔ پر سانول کوں کوئی فرق نہ پیا ۔ ہر ویلے سوچاں اِچ غرق راہندا ہا۔ نال آلی وستی دے جوگی آکھیا  جو" مائی پھاپھل ! پتر تیڈا بدھیا پئے ، میں ست راتیں جگارا کٹیساں اللہ خیر کریسی ۔" ایہہ گالھ سن چاچی ٹھک پھک پلو نال بدھے چالھی روپے  جوگی کوں کھول ڈتے تے ہتھ بدھ عرض کیتس:۔ "سئیں آں ! میڈا سانول میکوں ولا ڈے میں گدری گاں دی واگ نذر کریساں "
وستی دا ہر بندہ گویڑ کریندا ۔ اللہ جانے سانول کوں کیا تھی گئے ۔ ہکو ڈاڈا جند وڈا بے فکرا ودا ہا۔ مطمئن ہا ، چک تے حقے دا سوٹا چھکیندا تے ول اسمان دو ڈہدا تے مُسک پوندا  سانول دی بے چینی اونکوں مونجھا کیتی ودی ہئی نہ کوئی سانول دا درد بجھ سگدا ہا نہ سانول آپ کہیں کوں ڈس سگدا ہا۔


قصہ اتھائیں رک گیا ۔ دھوں دُکھن بندتھی گیا ۔ ایڈوں جوگی اپنا عمل شروع کیتا ۔ ہِک رات گزری ، ڈُوجھی گزری ، تریجھی گزری ، اورک سنویں رات آگئی ۔ جوگی دا عمل پورا تھیا تے اوں دھرتی اِچ ہِک کِلہ ٹھوک ڈِتا۔
سویل دا سِجھ کیا اُبھریا سانول دے منہ تے رونق ول آئی ۔ اونویں نرویا تھی گیا ۔ کِھلدا ، کھیڈدا ، بھجدا ودا ہا ۔مائی پھاپھل جوگی کوں بھوری کگاں دی واگ ڈتی ۔ ڈُوجھیاں منتاں منوتیاں پوریاں کیتیاں ۔ پر اصلی گالھ دی سِدھ کہیں کوں نہ ہئی ، جو ہوں رات سانول دل بدھ تے پہاڑ تے پُجن دا پکا ارادہ کر گھدا ہا۔ اوں سوچیا  جو او پہاڑ توں پانی بھر آسی تے ساری وستی کوں پلیسی تاں جو وستی جیندی راہوے ، کہیں کوں موت نہ آوے ۔ایہو خاب تے حوصلہ ہا جیڑھا سانول کوں کوش کیتی ودا ہا ۔ تے ہِک ڈیہنھ پہاڑ دُو ٹُر پِیا۔ہر کوئی پریشان ہووے ، سانول دی گول شروع تھئی  پر سانول لبھ نہ آیا۔
منزل دُو ٹُردے ٹُردے سانول کوں ہِک جنگل دے نیڑے رات پئے گئی اونکوں جنگل اِچ سوجھلا نظر آیا ۔ سانول ہوں پاسے ٹُر پیا ۔ ڈِہدے تاں کیا ڈِہدے ، ہِک جھوپڑی اے جیندے اِچ سِروں گنجا، پیروں رانا ہِک بندہ بیٹھے تے وِرد بیٹھا کریندے ۔" ایہہ ڈیکھ اے۔زندگی ڈُکھ اے۔ سبھ ڈُکھ ای ڈکھ اے"
سانول کنج دیر تاں ایہہ سب کجھ ڈہدا رِہیا ۔ ول کھنگورا مار ے اپنی موجودگی دا احساس ڈیوایستاں بابے اونکوں اندر سڈ گِھدا ۔ حال حویلا پُچھیس۔ سانولاپنا مدعا ڈسیا جو ایویں ایویں اُتھوں پانی اے۔ بابا گالھ سن تے ٹھڈا شُکارا بھریندے تے آہدے :۔ "بچڑا ! پانی ہے تاں سہی پر اج تئیں اُتھوں پانی بھر کے ولیا کئی نی ۔ میں تیکوں مت لینداں جو اگوں نہ ونج تے گھر ول ونج۔"
سانول ضد کر گیا ۔ بابے آکھیا:۔ "بچڑا ! اینویں سِدھا پِیا ونج ، ہِک ڈینہھ دے پندھ دے بعد اگوں سڑک دُو راہ تھی ویسی ۔ ہِک سجے پاسے، دُوجھی کھبے پاسے ۔ پر توں کڈاہیں نہ ٹُریں تے سِدھا پیا ونجیں ۔ اگوں تیکوں ہِک بندہ مِلسی  جیڑھا تیکوں راہ لیسی ۔ پر بچڑا یاد رکھیں ، نِرا ڈُکھ ای ڈُکھ اے۔"
سانول ہر گالھ سُن گِھدی تے لحظہ اکھ لاون دی اجازت منگیس ۔ بابے موکل ڈِتیتے سانول اتھائیں لمبا تھی گیا ، پر اکھیں اِچ نِندر نہ آیُس ، اوندے من اِچ خوشی و ہئی تے بے چینی وی۔
ایں حال اِچ اُتھائیں رات لنگھایس تے سنویں سنج نال اُتھوں ٹُر پیا ۔ ٹُردے ٹُردے شام تھی گئی ۔ اگوں ڈُوراہ آگئے پر او سِدھا ٹُریا گیا اگوں ونج تے کیا ڈہدے جو ہِک چھولداری اے جیندے اِچ ہِک سودائی بیٹھے لحظے لحظے کوئی شئے نِپڑیندے ، درد دی آہ کڈھیندےتے آہدے شکر اے میں جینداہاں ۔سانول کھنگورا مار کے اپنی موجودگی دا احساس ڈیویندے ، سودائی سانول کوں ڈیکھ تے کِھل پوندے تے آہدے پتر آ اندر لنگھ آ۔ سانول اندر لنگھ آندے تے اپنی گزری وہانی سُنیندے۔سودائی آہدے :۔"کاکا ! توں وی ایہو عمل کر جیڑھا میں کریندا بیٹھا ں ول تیکوں احساس تھیسی جو جیندا وی ہیں یا کائناں ۔"
پر سانول آہدے :۔" بابا میکوں رات ٹِکا تے اگوں دا رستہ لا۔"
سودائی آہدے:۔" سویلے سویلے ٹُر پوویں ، اگوں ہِک جا تے چوک آسی ، پر توں سِدھا ونجیں پیا ، اگوں ول کوئی تیکوں مِلسی جیڑھا تیکوں راہ لیسی۔"
سانول رات گزار تے ٹُر پوندے ۔ شام تھیون توں پہلے اگوں چوک آویندے ، پر ایہہ سِدھا ٹُردے ویندا ۔ اگوں ڈِہدے تاں کیا ڈِہدے جو ہِک بزرگ اے ، جیڑھا حیرت نال ڈہدا بیٹھے ، ایویں لگدے جو سب کجھ ڈِہدا بیٹھے پر اونکوں کوئی خبر کائنی ۔ 
سانول کھنگورا مار کے اونکوں اپنی موجودگی دا احساس ڈیویندے ۔ بابا اوں حالت اِچوں نکلدے تے آہدے :۔"نہ سفر مُکدے ، نہ حیرت مُکدی اے۔
خیر بچڑا! حال کر، کیویں آئیں ۔"
سانول اپنے آون دا حال حویلا ڈیندے تے رات ٹِکن دی ارداس کریندے ۔ بزرگ آہدے :۔ "پتر اج تئیں پانی بھر کے کوئی نی ولیا ۔ حیرت ضرور تھیندی اے ۔ خیر پتر سویرے اُٹھی کے سِدھا ٹُر پوویں شام توں پہلے منزل تے پُج ویسیں ۔ پر نہ سفر مُکدے نہ حیرت مُکدی اے۔"
سانول سویرے اُٹھی کے ٹُر پوندے ، ٹُردے ٹُردے اونکوں ایویں لگدے جو ہر شئیے سُنجاپو ہے۔ ہر شئے اپنی اپنی اے۔ سانول جنگل ٹپدے تاں کیا ڈِہدے اپنی وستی اِچ آیا کھڑے ۔ حیرت توں اکھیں کھل ویندے نِس ، پر زبانوں کجھ الا نی سگدا، سکتے اِچ آویندے۔ سامنے ہِک مشکی نانگ  چھجلی کڈھ کے کھڑے  ڈنگ مریندے تے سانول شل تھی ویندے ۔


ڈاڈا جِند وڈا وستی آلیاں کوں کٹھا ودا کریندے جو مارکہ رات ضرور آواہے قصہ اتھاؤں شروع کریساں  جتھاں مکیاہئ۔اللہ ڈتا پانی دے وارے توں آندے تاں اگوں پتر دی لاش پئی ہوندی اِس۔ جیندے منہ اِچوں جھگ نکلدی پئی ہوندی اے ۔ اللہ ڈتا لاش چا وستی ؤڑدے تاں ڈاڈا جند وڈا آہدا بیٹھا ہوندے :۔ "بالو ! سانول اوں پاسے گئے جتھوں پانی بھر کے کوئی نی ولیا۔"  


 
سرائیکی وسیب - ،، اساں بہوں تھوریت ہیں جناب ذوالقرنین سرور سائیں دے