ہن تھی فریدا شاد ول جھوکاں تھیسن آباد ول

Sunday, 5 May 2013

لوک گیت ۔ وسیب کی ثقافت کے امین


ہر جاندار مخلوق اپنی خوشی  ، غم ، محبت اور نفرت کےجذبات و احساسات کا اظہار مختلف انداز یعنی  آوازوں اور حرکتوں سے کرتی ہے ۔انسانی تاریخ کے حوالے سے دیکھا جائے تو جب انسان بولنا نہیں جانتا تھا تو اپنے جذبوں کا اظہار لفظوں  کی بجائے حرکتوں سے کرتا تھا ۔ یہاں پر لوک رقص عیاں ہوا۔
بعد میں انسان نے اپنے جذبوں کو لفظوں کا روپ دیا ۔ اور آخرکار یہ لفظ گیت بن گئے ۔ ان گیتوں کی وجہ  کسی شاعر کی شعوری کوشش نہ تھی اور نہ ہی ان پر کسی شاعر کی چھاپ لگی ہوئی ہے ۔ ان گیتوں میں  شاعری کی فنی باریکیوں کی بجائے جذبوں کا اظہار نمایاں ہوتا ہے ۔۔ ہمیں کبھی کبھار  تو لوک گیتوں کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہوتا  کہ کون کون سے بول ان میں کب شامل ہوئے ۔ ہم صرف ان گیتوں کے ذریعے  اپنے من میں اٹھتے  ہوئے جذبوں کا اظہار کرتے اور لطف اٹھاتے ہیں ۔
لوک گیت جنگلوں  میں پیدا ہونے والے پھول ہوتے ہیں جو اپنے رنگوں ، خوبصورتی  اور خوشبو سے ہر کسی کا دل موہ لیتے ہیں۔ یہ دھرتی سے جنم لیتے ہیں اور  دھرتی واسیوں کے ہاتھوں پھلتے پھولتے ہیں ۔ اور پھر ایسا سایہ بن جاتے ہیں کہ اس سائے  میں بیٹھنے والے یعنی اس گیت کو سننےوالے  کی ساری تھکن اتار دیتے ہیں ۔یہ دیہاتی لوگوں کے  سیدھے سادے دلوں سے نکلے جذبات ہوتے ہیں جو گیت بن جاتے ہیں۔  ان گیتوں میں معصوم لوگوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں  کے رنگ اور ان کی بھولی بھالی خواہشوں کے سائے لمبے ہوتے  نظر آتے ہیں جو پوری نہیں ہو سکتیں اور اداس دلوں کیلئے لہو رنگ بن جاتی ہیں ۔ 
اکثر لوک گیتوں میں کئی مقامات پر  زندگی کی سچائیاں ایسی سادگی اور محاورے دار موتیوں جیسی بولی میں جڑی ہوتی ہیں کہ وہ دلوں کو موہ لیتی ہیں ۔یہ گیت پشت در پشت  ، سینہ بسینہ  یادوں میں چلے آرہے ہیں ۔  یہ خوشیوں  بھرے لوک گیت خوبصورتی سے گزرے وقت کی یاد تازہ کرکے  آنے والی گھڑیوں کی رکھوالی کرتے اورہمیشہ  دماغوں کو تروتازہ رکھتے ہیں۔
سرائیکی وسیب میں بچوں کے گیت ، ڈولی ، جھوک ، جنج کی واپسی  کے گیت ، پکھیوں کے گیت ، مہندی ، جگ راتے ، جھمر، چرخے ،  چھلے ، ڈھولے ،  ڈوہڑے ، رادھاں ،  زیارتوں ، ساون ماکھوں ،  سہرے ، سموڑیاں  ، سگن، سمیں ، فصلوں ، کھیلوں ،  لولی ، مخولیہ ، ماہیے ، میل ، دھرتی وغیرہ کے گیت رائج ہیں ۔  اور ہماری تہذیب و ثقافت کی بھرپور انداز میں  عکاسی کرتے ہیں۔ شہری زندگی میں تو یہ  آہستہ آہستہ  یہ رسمیں  ، ریتیں  معدوم ہوتی جا رہی ہیں ۔  لیکن دیہاتی زندگی اور ماحول   نے ابھی تک  کچھ حد تک ان  صدیوں پرانی ریتوں اور رسموں یعنی لوک گیتوں  کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔
سرائیکی لوک گیتوں کی  تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود سرائیکی  شاعری کی  تاریخ ہے ۔ یہاں  سرائیکی  وسیب میں رائج  چند اہم لوک گیتوں  کے  نمونے پیش کیے جاتے ہیں۔

بچوں کے گیت
جھل پکھا تے آوے  ٹھڈی وا
میڈے ویر کو  ں رنگ چا لا

پرنے(شادی) کے گیت
پُھلاں  والی ارائین سہرا پھلاں دا پوا
جیوی پیو تے بھرا، ساڈادل نہ رنجا

شادی کے موقع پر گاناں  بدھائی کا  گیت
تیڈے گانے کوں  لاواں گھیو خاناں
تیڈی جنج سوہیسی  پیو خاناں
میڈا  خیر  اللہ  دا  بدھ  خاناں

مہندی کے گیت
مہندی کو ں لاواں مینڑ
تیڈیاں ویلاں گھلیسم بھینڑ

سہرے  کے گیت
حوراں پریاں سہرے  گانون
وارو واری  ویلاں پانون

وے میں  سہرا تیڈا گانواں وے
شہزادہ بنا وے

جھمر کے گیت
کوٹھے تے پڑ کوٹھڑا  وے ، تے کوٹھے سکدااے گھا بھلا
لکھ لکھ  چٹھیاں وے میں تھک ہٹیاں  تو کہیں بہانے  آ بھلا

دل تانگھ تانگھے، اللہ  جوڑ سانگھے
سجناں  دا ملنا  مشکل مہانگے

کھڑی ڈیندی آں  سنیہا اناں لوکاں کوں
اللہ آن وساوے  ساڈیاں جھوکاں کوں

چھلے  کے گیت
چھلا پاتی کھڑی  آں ہک
میڈی نئیں پئی لاہندی سک
میکوں  تیڈی پئی اے  چھک
منہ  ڈکھاویں چا

تیڈے کھوہ  تے  آئیاں پانی پلا ڈے
سخناں  دا کوڑا ساڈے چھلڑے  ولا ڈے

ڈھولے  کے گیت
بزار  وکاندی  تر وے
میڈا سوڑی گلی وچ گھر وے
تے پیپل نشانی وے ڈھولا
بزار وکاندی پنڈ وے
تیڈے بت وچ میڈی جند وے
ہکو کر سمجھیں وے ڈھولا

ماہیے کے  گیت
ککراں دے پھل ماہیا
اساں پردیسی ہیں
ساڈے پچھوں نہ  رُل ماہیا

روٹھنے کے گیت
میڈا چن مساتا،  میڈا چن مساتا
اینویں  نی کریندا 
 لوکاں  دے آکھے رُس نئیں  ونجیندا

ساوی موراکین تے بوٹا  کڈھ ڈے چولے تے
رُٹھی نی منیساں  بہوں  ناراض ہاں ڈھولے تے

 
سرائیکی وسیب - ،، اساں بہوں تھوریت ہیں جناب ذوالقرنین سرور سائیں دے